Breaking News

امیر ہونے کا ایک کامیاب نسخہ

12791085_1737772249788489_7964052860593820354_nامیر ہونے کا ایک کامیاب نسخہ

——————————

“بھائی جان میں نے تین کروڑ بیس لاکھ روپے کی دوکان خرید لی ہے..”
جمعہ 26 جنوری کو جب شرجیل نے لاہور سے فون کیا تو اتنا جوش وخروش میں تھا کہ میرا حال احوال دریافت کرنا بھی بھول گیا.. پوچھا کہ اس وقت کہاں ہیں..؟
“کراچی میں..” میں نے جواب دیا.. “دو دن بعد لاہور پہنچوں گا..”
بولا.. “لاہور پہنچتے ہی مجھے فون کیجئے گا..” میں نے حامی بھر لی.. سچی بات تو یہ ہے کہ اس کامیانی پر مجھے اطمینان قلب محسوس ہوا..
دس سال قبل شرجیل نے “ایم ایس سی” کر لی تو خاندانی حالات کے باعث جاب یا بزنس اس کی شدید ضرورت تھی.. شرجیل ایک روز کہنے لگا.. “بھائی جان کوئی ٹھوس اور قابل عمل حل بتائیں کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاؤں..”
میں نے توقف اور غوروخوض کے بعد کہا.. “تین دن بعد میں اسلام آباد جا رہا ہوں میرے ساتھ چلنا..”
اور پھر ہم بزرگ دوست “قاضی صاحب” کے پاس گئے.. قاضی صاحب حکیم اور روحانی دانشور ہیں.. قاضی صاحب کو مسئلہ بتایا تو بڑے اطمینان سے مسئلہ سنتے رہے.. کمرے میں خاموشی چھا گئی تو بولے.. “شرجیل صاحب آپ حوصلہ مند دکھائی دیتے ہیں.. آپ دو کام کریں.. کوئی چھوٹا موٹا دھندا کرلیں اور دوسرا یہ کہ جو بھی کریں اس میں اللہ تعالٰی کو اپنے ساتھ “بزنس پاٹنر” بنالیں..”
شرجیل نے میری طرف اور میں نے شرجیل کی طرف حیرت سے دیکھا..
قاضی صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا.. “یہ کام مردوں کا ہے.. صرف عزم بالجزم رکھنے والا مرد ہی کر سکتا ہے.. اگر کاروبار کے نیٹ پرافٹ میں پانچ فیصد اللہ تعالٰی کا شیئر رکھ کر اللہ تعالی کے بندوں کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری نہ کریں تو لازما” آپ کا کاروبار دن رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا..”
واپسی پر لگتا تھا شرجیل اس پر عمل نہیں کرے گا لیکن اس نے کمال حیرت سے عمل کر دکھایا..
مجھے یاد ہے یہ 1997 کا سال تھا.. اس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ تھا.. اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا’ اسی ایک ہزار روپے سے اس نے بچوں کے پانچ سوٹ خریدے اور انار کلی بازار میں ایک شیئرنگ سٹال پر رکھ دیے.. دو دن میں تین سو روپے پرافٹ ہوا تھا.. تین سو روپے میں سے اس نے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کی راہ میں دے دیئے تھے..
پھر اور سوٹ خریدتا اور اصل منافع میں سے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کے نام کا شیئر مخلوق پر خرچ کرتارہا.. یہ پانچ پرسنٹ بڑھتے بڑھتے چھ ماہ بعد 75 روپے روزانہ کے حساب سے نکلنے لگے یعنی روزانہ کی آمدنی تقریبا سات سو روپے ہو گئی.. ایک سال بعد ڈیڑھ سو روپے ‘ تین سال بعد روزانہ پانچ پرسنٹ کے حساب سے تین سو روپے نکلنے لگے جسکا مطلب یہ ہے کہ تین سال بعد اسے روزانہ چھ ہزار بچنا شروع ہو گئے تھے.. اب سٹال چھوڑ کر اس نے دوکان لے لی تھی.. جب فون آیا تو میرا پہلا سوال یہی تھا کہ اب روزانہ پانچ پرسنٹ کتنا نکل رہا ہے..؟
اس نے بتایا کہ روزانہ ایک ہزار نکل آتا ہے جو خلق خدا پر خرچ کر دیتا ہوں.. گوہا اب آمدنی روزانہ بیس ہزار روپے ہے.. یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالی’ کے ساتھ “بزنس” میں اس نے آج تک بےایمانی نہیں کی..
قاضی صاحب نے بتایا تھا کہ جس کاروبار میں اللہ تعالی کو پارٹنر بنالیا جائے یعنی اللہ تعالی کی مخلوق کا حصہ رکھ لیا جائے وہ ہمیشہ پھلتا پھولتا ہے.. بشرطیکہ انسان کے اندر تکبر نہ ہو ‘ عاجزی ہو.. انہوں نے سچ ہی کہا تھا کہ کاروبار اتنا چل نکلتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب بندہ سوچتا ہے میرا کافی روپیہ لوگوں میں مفت میں تقسیم ہو رہا ہے.. انہوں نے بتایا تھا کہ دولت مند بننے کا یہ نسخہ انہیں بزرگوں سے منتقل ہوا ہے اور کبھی بھی یہ نسخہ ناکام نہیں ہوا.. ماشا اللہ..
یہ شنید نہیں ‘ دید ہے کہ اصل منافع میں سے پانچ فیصد ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والا بہت جلد دولت مند بن جاتا ہے..!!

About Hakeem Arif

Check Also

https://www.herbalelaj.com

جریان اور احتلام کیلئے آزمودہ علاج

جریان اور احتلام کیلئے آزمودہ علاج :ھوالشافی گوند کیکر/ کتیرا/ تالمکھانہ/ شقاقل/ گوند سوہانجنا/ گوند …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *